Sunday, 20 September 2015

Hajj


























فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ

In it are manifest signs (for example), the Maqam (place) of Ibrahim (Abraham); whosoever enters it, he attains security. And Hajj (pilgrimage to Makkah) to the House (Ka’bah) is a duty that mankind owes to Allah, those who can afford the expenses (for one's conveyance, provision and residence); and whoever disbelieves [i.e. denies Hajj (pilgrimage to Makkah), then he is a disbeliever of Allah], then Allah stands not in need of any of the 'Alamin (mankind and jinns).

اس میں کئی کھلی نشانیاں ہیں (جن میں سے ایک) حضرت ابراہیم کا مقام عبادت ہے۔ جو شخص اس گھر میں داخل ہوا وہ مامون و محفوظ ہوگیا۔ اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو شخص اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو شخص اس حکم کا انکار کرے (وہ خوب سمجھ لے کہ) اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

[Al-Quran, Surat ‘Āli ‘Imrān 3, Verse 97, Part 4]